لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً
(الاحزاب : ۲۱)
’’ فی الحقیقت تم مسلمانوں کے لیے رسول اللہ کا قول وکمل ایک بہترین نمونہ ہے ان کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ کو بہت یاد کرتےرہتے ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ اختلافی امور میں جب تک رسول کریم ﷺ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم نہ کیا جاۓ ، بندہ مومن نہیں ہوسکتا ۔ آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے بند و روز قیامت انبیاء، صدیقین ، شہداء اور صالحین ( اولیاء کرام کی رفاقت حاصل کر لے گا۔ نبی کریم ملے ﷺ کی اطاعت درحقیقت اطاعت الہی ہے ۔ اتباع رسول ﷺ سے بندہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے اور یہ اہل ایمان کی بڑی صفات میں ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا قول وعمل ہی اہل ایمان کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔
]]>